بلوچستان میں لیڈی کانسٹیبل کی شہادت، دہشت گرد حملے میں جان قربان

بلوچستان کے ضلع خضدار میں دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان قربان کر کے جامِ شہادت نوش کیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ 19 اپریل 2026 کو خضدار کے علاقے بَجوئی میں پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حملے کے دوران ملک ناز بہادری سے ڈٹی رہیں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ملک ناز کو 2013 میں شہید کوٹہ کے تحت لیویز فورس میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ ایک بہادر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، کیونکہ ان کے شوہر عبدالغنی بھی 2011 میں لیویز فورس میں خدمات انجام دیتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے تھے۔
امریکی ریپر آئس اسپائس پر ریسٹورنٹ میں حملہ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت جاری رکھی اور بالآخر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ملک ناز بلوچستان کی پہلی شہید خواتین اہلکاروں میں شامل ہو گئی ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں، جو اس عظیم قربانی کے بعد غمزدہ ہیں۔ حکام نے شہید کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ملک بھر میں عوام اور حکام کی جانب سے ملک ناز کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔












